نیویارک،6اگست(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا)شمالی کوریا کے خلاف قرارداد کی منظوری کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہنا تھا، اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے شمالی کوریا کے خلاف قرار داد صفر کے مقابلے میں پندرہ ووٹوں سے منظور کی ہے۔ چین اور روس نے ہمارے ساتھ ووٹ دیا ہے۔ اس کا بہت زیادہ معاشی اثر پڑے گا۔
دوسری جانب چینی وزیر خارجہ نے وانگ ژی نے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ مذاکرات کی میز پر واپس آئیں۔ چین کو روایتی طور پر شمالی کوریا کا دوست ملک قرار دیا جاتا ہے۔ ماضی میں چین متعدد مرتبہ شمالی کوریا کے خلاف پیش ہونے والی قرارداداوں کو ویٹو کر چکا ہے لیکن اس مرتبہ چین اور روس نے بھی شمالی کوریا کے خلاف ووٹ دیا ہے۔
چین کی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا کے اشتعال انگیز میزائل تجربات کے خلاف یہ بہتر جواب ہے۔ چین نے ایک مرتبہ پھر یہ کہا ہے کہ شمالی کوریا کو فی الحال اپنا میزائل پروگرام معطل کر دینا چاہیے اور امریکا کو جنوبی کوریا کے ساتھ تواتر سے جاری فوجی مشقوں کا سلسلہ ختم کرنا چاہیے۔سلامتی کونسل اس سے پہلے بھی چھ مرتبہ شمالی کوریا کے خلاف پابندیاں عائد کر چکی ہے لیکن اس کے باوجود شمالی کوریا اپنا جوہری اور میزائل پروگرام جاری رکھے ہوئے ہے۔ امریکا نے چین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شمالی کوریا کے خلاف عائد کی جانے والی ان پابندیوں پر عمل درآمد یقینی بنائے۔